History of Urdu

تاریخ اردو

اردو ہندی زبان کی طرح ہندوستانی زبان کی ایک قسم ہے۔ یہ شوراسنی زبان (یہ زبان وسطی ہند آریائی زبان تھی جو موجودہ کئی زبانوں کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، ان میں پنجابی زبان بھی شامل ہے) کی ذیلی قسم اپ بھرنش سے قرون وسطٰی (چھٹی سے تیرہویں صدی) کے درمیان وجود میں آئی۔

اگرچہ لفظ اردو بذات خود ترک زبان کے لفظ اوردو (لشکر، فوج) یا اوردا سے نکلا ہے۔ ترک زبان سے اردو میں کم ہی الفاظ آئے ہیں۔ ٍعرب ،ترک الفاظ اردو میں پہنچ کر فارسی قسم کے بن گئے ہیں جیسے ة کو اکثر اوقات ه میں بدل دیا جاتا ہے۔ مثلاً عربی تائے مربوطہ (ة) کو (ہ) یا (ت) میں بدل دیا جاتا ہے۔

عربی کا اس خطے میں عمل دخل اس وقت شروع ہوا جب پہلے ہزار سال کے آخری دور میں عربوں نے برصغیر کے کچھ علاقوں میں بطور فاتح قدم جمایا۔ جبکہ کچھ صدیوں بعد وسطی ایشیا کے افغان ترک فارسی متکلم باشاہوں نے فارسی زبان کو اس خطے میں متعارف کرایا، ان بادشاہوں میں سلطان محمود غزنوی قابل ذکر ہیں۔ دلی کی ترک افغان سلطنت نے سب سے پہلے فارسی کو شمالی ہندوستان کی دفتری زبان قرار دیا پھر ان کی پیروی کرتے ہوئے مغلوں نے بھی اسے سولہویں سے اٹھارویں صدی تک اسی حالت میں برقرار رکھا، یوں صدیوں تک فارسی زبان نے جنوبی ایشیا میں اپنے قدم مضبوطی سے جمائے رکھے۔ اس طرح اس نے ہندوستانی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

اردو زبان کو ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ خاص کیا جاتا ہے اور اسی حوالے سے کئی نظریات بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ممتاز محقق حافظ محمود شیرانی کے نزدیک یہ زبان محمود غزنوی کے حملہ ہندوستان کے ادوار میں پنجاب میں پیدا ہوئی جب فارسی بولنے والے سپاہی پنجاب میں بس گئے نیز ان کے نزدیک یہ فارسی متکلمین دو سو سال تک دہلی فتح کرنے سے قبل وہاں آباد رہے، یوں پنجابی اور فارسی زبانوں کے اختلاط نے اردو کو جنم دیا پھر ایک آدھ صدی بعد جب اس نئی زبان کا آدھا گندھا خمیر دہلی پہنچا تب وہاں اس نے مکمل زبان کی صورت اختیار کی اس حوالے سے انھوں نے پنجابی اور اردو زبان میں کئی مماثلتیں بھی پیش کی ہیں۔ (سندھ جسے مسلمانوں نے اس سے بھی قبل فتح کیا کے متعلق ان کا خیال ہے کہ وہاں مسلمانوں نے مقامی زبان نہیں اپنائی)۔ شیرانی کے اسی نظریہ کو “پنجاب میں اردو” نامی مقالے میں لکھا گیا جس نے اردو زبان دانوں میں کافی شہرت پائی اور اسی کو دیکھ کر بہت سے محققین نے مسلمانوں کی آمد سے اردو کے آغاز کو جوڑنا شروع کیا اس طرح “دکن میں اردو”، “گجرات میں اردو”، “سندھ میں اردو”، “بنگال میں اردو “حتیٰ کہ “بلوچستان میں اردو” کے بھی نظریات سامنے آئے۔ (حقیقتاً شیرانی سے قبل بھی بعض محققین جیسے سنیت کمار چترجی، محی الدین قادری زور اردو پنجابی تعلق کے بارے میں ایسے خیالات رکھتے تھے البتہ اسے ثابت کرنے میں وہ دوسروں سے بازی لے گئے) حافظ شیرانی کے نظریہ کی مخالفت کرنے والوں میں مسعود حسین خان اور سبزواری جیسے محققین شامل ہیں جنہوں نے ان کے نظریے کو غلط ثابت کیا۔ ایک نظریہ یہ بھی مشہور ہے کہ اردو مغل بادشاہ اکبر کے لشکر میں وجود آئی لیکن بہت سے ماہرین لسانیات اس کی نفی کرتے ہیں۔

برطانوی راج میں فارسی کی بجائے ہندوستانی کو فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور ہندو مسلم دونوں اس پر عمل کرتے تھے۔ لفظ اردو کو شاعر غلام ہمدانی مصحفی نے 1780ء کے آس پاس سب سے پہلے استعمال کیا۔ تیرہویں سے اٹھارویں صدی تک اردو کو عام طور پر ہندی ہی کے نام سے پکارا جاتا رہا۔ اسی طرح اس زبان کے کئی دوسرے نام بھی تھے جیسے ہندوی ،ریختہ یا دہلوی۔ اردو اسی طرح علاقائی زبان بنی رہی پھر 1837ء میں فارسی کی بجائے اسے انگریزی کے ساتھ دفتری زبان کا درجہ دیا گیا۔ اردو زبان کو برطانوی دور میں انگریزوں نے ترقی دی تاکہ فارسی کی اہمیت کو ختم کیا جا سکے۔ اس وجہ سے شمال مشرقی ہندوستان کے ہندوؤں میں تحریک اٹھی کہ بجائے فارسی رسم الخط کہ اس زبان کو مقامی دیوناگری رسم الخط میں لکھا جانا چاہیے۔ نتیجتاً ہندوستانی کی نئی قسم ہندی کی ایجاد ہوئی اور اس نے 1881ء میں بہار میں نافذ ہندوستانی کی جگہ لے لی۔ اس طرح اس مسئلہ نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہندوستانی کو دو زبانوں اردو (برائے مسلم) اور ہندی (برائے ہندو) میں تقسیم کر دیا۔ اور اسی فرق نے بعد میں ہندوستان کو دو حصوں بھارت اور پاکستان میں تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا (اگرچہ تقسیم سے پہلے اور بعد میں بھی بہت سے ہندو شعرا و مصنفین اردو سے سے جڑے رہے جن میں معروف منشی پریم چند ،گلزار، گوپی چند نارنگ ،آزاد اوروغیرہ ہیں)

اردو اور ہندی زبان کو “پاک” کرنے کی مہم اب بھی جاری ہے اور اس طرح اردو میں سنسکرت کی بجائے فارسی عربی الفاظ زیادہ داخل کیے جاتے ہیں جبکہ ہندی میں سنسکرت کے الفاظ کو فوقیت دی جاتی ہے۔ اس طریقے نے تعلیمی اور ادبی ذخیرہ الفاظ کو بہت متاثر کیا ہے اس کے باجود دونوں قوموں میں اب بھی سنسکرت اور فارسی کی جڑیں باقی ہیں۔ انگریزی نے ان دونوں زبانوں پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔

error: Content is protected !!